اگر تلہ ،28؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف تشدد پر صدائے احتجاج بلند کرنے کے نام پر منگل کو پھر تریپورہ میں شرپسند بھگوا عناصر نے مسلمانوں پر حملے کئے۔ کم از کم ایک مسجد میں گھس کو توڑ پھوڑ کی اور مسلمانوں کی کئی دکانوں اوران کے کئی مکانوں کو نذر آتش کردیاگیا۔ اس دوران گھروں میںگھس کر خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر حملے کے جواب میں تریپورہ میں مسلمانوں کو نشانہ بنایاگیاہے۔ گزشتہ ہفتے بھی مسلمانوں پر شدید حملے ہوئے تھے اور کئی مساجد کو نقصان پہنچایاگیاتھا جس کے بعد انتظامیہ نے مساجد کو سیکوریٹی فراہم کرنے کا دعویٰ کیاتھا۔ منگل کو مسجد پر ہونے والے اس حملے سے انتظامیہ کے دعوؤں کی حقیقت طشت از بام ہوگئی ہے۔
معاصر انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں کم از کم ایک مسجد کے نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق دیگر مساجد کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ پانی ساگر علاقے کے سب ڈویژنل پولیس افسر شوبک ڈے نے بتایا کہ وی ایچ پی کی ریلی میں تقریباً ساڑھے ۳؍ ہزار افراد شریک تھے۔
یہ ریلی اسی ماہ کے اوائل میں بنگلہ دیش میں فرقہ وارانہ تشددکے خلاف احتجاج کیلئے نکالی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ریلی میں موجود چند شرپسند عناصر نے چام ٹیلا علاقے میں واقع مسجد میں توڑ پھوڑ کی۔‘‘ اس کے ساتھ ہی شوبک ڈے نے بتایا کہ ’’بعد میں تین گھروں اور ۲؍ دکانوں پر بھی حملے ہوئے جبکہ رووا بازار علاقے میں ۲؍ دکانوں کو نذر آتش کردیاگیا جو تشدد کی پہلی واردات کی جگہ سے ۸۰۰؍ میٹر کی دوری پر واقع ہے۔‘‘ پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جن دکانوں اور گھروں کو نشانہ بنایاگیا وہ مسلمانوں کی تھیں۔ افسر کےمطابق متاثرین میں سے ایک شخص کی شکایت پر کیس درج کرلیاگیاہے۔
اس سلسلے میں پولیس میں درج کرائی گئی شکایت میں یہ بھی بتایاگیا ہے کہ ریلی میں شامل افراد نے زبردستی گھروں میں گھس کر بدتمیزی کی۔ مکتوب میڈیا ڈاٹ کام نے بنگالی زبان میں پولیس کی دی گئی ایک تحریری شکایت کے عکس کے ساتھ شائع خبر شائع کی ہے۔اس کےمطابق شکایت میں کہاگیا ہے کہ ’’۲۶؍ اکتوبر کو دوپہر تقریباً۳؍ بجے کے آس پاس پانی ساگر میں وشو ہندو پریشد نے ایک ریلی کا اہتمام کیا۔ ریلی رووا بازار سے ہوتے ہوئے چام ٹیلہ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ریلی میں شامل چند شر پسند عناصر نے دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اورانہیں نذرآتش کیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ بازار کے قریب واقع مکانات میں گھس گئے اور وہاں بھی انہوں نے توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی۔ انہوں نے رووا کی جامع مسجد پر حملے کا منصوبہ بنارکھا تھا۔ ‘‘ شکایت میں مزید کہاگیا ہے کہ ’’ایسے سنگین حالات میں اقلیتیں یہاں خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہیں اور جان بچاکر بھاگنے پر مجبور ہیں۔ ‘‘اس کے ساتھ ہی پولیس سے تعزیرات ہند کی مناسب دفعات کے تحت خاطیوں کے خلاف کارروائی کی اپیل کی گئی ہے۔
دی اسکرول ڈاٹ اِن کی رپورٹ کے مطابق مسجد پر حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے ریلی میں شریک رہنے والے ایک شخص نے جس نے اپنی شناخت نارائن داس کے طور پر کرائی ہے، نے اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مسجد کے باہر کھڑے ہوئے چند نوجوانوں نے ریلی میں شامل افراد کو گالیاں دیں اور برا بھلا کہا۔ داس نے حیرت انگیز دعویٰ کیا کہ مذکورہ نوجوان تلواراور دیگر ہتھیاروں سے لیس تھے۔
گزشتہ ہفتے بھی تشددکی وارداتوں میں خاص طور سے مساجد کو نشانہ بنایاگیاتھا۔ جمعیۃ علمائے ہند کی مقامی اکائی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ متعدد مسلم اکثریتی علاقوں اور کئی مساجد کو نشانہ بنایاگیاہے۔ اس کے بعد تریپورہ پولیس نے اعلان کیاتھا کہ وہ ایسے حملوں کو روکنے کیلئے ریاست کی ۱۵۰؍ مساجد کو سیکوریٹی فراہم کر رہی ہے۔
اس سے قبل ۱۸؍ اکتوبر کو بھی شرپسندوں نے اسی طرح کی ریلی نکالی تھی اور گومتی ضلع میں جب پولیس نے انہیں قانون کے مطابق روکنے کی کوشش کی تو وہ پولیس سے ہی ٹکراگئے۔اس واقعہ میں ۱۵؍ افراد زخمی ہوئے تھے جن میں ۳؍ پولیس اہلکار تھے۔ تریپورہ میں اپوزیشن پارٹی سی پی ایم نے مسلمانوں پر ہونےوالے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئےکہا ہے کہ ریاست میں شرپسند کھلے عام امن وامان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بائیں محاذ نے سماج کے تمام طبقوں سے تحمل کی اپیل کرتے ہوئےحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جن کے گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچایاگیاہے،انہیں مناسب معاضہ دیا جائے۔ بی جے پی کے ترجمان نبیندو بھٹا چاریہ نے تشدد کی ایسی کسی واردات سے لاعلمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسا کچھ ہوا ہے کہ توپولیس اس کے خلاف مناسب کارروائی کرنی چاہئے۔